بنگلورو،4؍فروری(ایس او نیوز) ریاستی لیجسلیچر اجلاس جو پیر سے شروع ہونے جارہا ہے اس کیلئے ریاستی لیجسلیچر سکریٹریٹ نے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ تاہم سال کا پہلا اجلاس پندرہ دن چلانے کی بجائے صرف چار دن تک محدود رکھنے ریاستی حکومت کے فیصلے پر ریاستی لیجسلیٹیو کونسل چیرمین ڈی ایچ شنکر مورتی نے سخت اعتراض کیا۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2015میں منظور شدہ قانون کے مطابق سال کا پہلا اجلاس کم از کم پندرہ دن اور بجٹ اجلاس 20 دن ، مانسون اجلاس 15دن اور سرمائی اجلاس دس دن چلنا ہی ہے۔ گورنر کے خطاب سے شروع ہونے والا اجلاس صرف چار دن چلے گا جو کہ ایک اچھی شروعات نہیں ہے۔اس طرح کے اجلاس کے اہتمام سے جمہوری تقاضوں کی تکمیل نہیں ہوپائے گی۔انہوں نے کہاکہ اجلاس میں شریک ہونے اراکین کی دلچسپی غیر معمولی ہے۔72 اراکین کونسل نے 390 سوالات تحریری جوابات کیلئے جمع کروائے ہیں، جبکہ 84سوالات ایوان میں جواب دینے کیلئے درج ہوئے ہیں۔ چار روزہ اجلاس میں 62 توجہ دلاؤ نوٹس داخل کی گئی ہیں، جبکہ عوامی اہمیت کے حامل 13امور پر مختصر بحث کی نوٹسیں داخل کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کی طرف سے پیش کردہ مختلف بلس اگر منظوری کیلئے آئیں تو ان کیلئے بھی وقت درکار ہے۔ اسی لئے صرف چار روزہ اجلاس ناکافی ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو یہ اجلاس کم از کم پندرہ دنوں تک چلانا چاہئے تھا، انہوں نے میڈیا سے گذارش کی کہ اس کو مثبت پہلو میں پیش کرکے میڈیا حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہاکہ 6اور 7؍ فروری کو ہونے والی بزنس اڈوائزری کمیٹی میں بھی وہ یہ معاملہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ شنکر مورتی نے کہاکہ 2015میں 59دنوں تک لیجسلیچر اجلاس کی کارروائیاں چلیں ، لیکن 2016میں یہ گھٹ کر 36 دن ہوگیا۔ شنکر مورتی نے کہاکہ ایوان کی کارروائیاں چلانے کیلئے حکمران پارٹی ہی نہیں اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بھی تعاون ملنا چاہئے۔بصورت دیگر حکومت کو مجبوراً اجلاس کی کارروائیاں قبل از وقت نمٹانی پڑتی ہیں۔